Sonntag, 10. Juli 2011

آمدِ صبح

میرا جی

آمدِ صبح


دوپٹہ شب کا ڈھلکے گا!
نہ ٹھہرے گا یہ سر پر رات کی رانی کے اک پل کو،

یہ روشن اور اجلا چاند یعنی رات کا پریمی
یہ اس کو جگمگاتے،پیلے تاروں سے
سجا کر لایا ہے گھر سے
مگر چنچل ہے رانی رات کی بے حد،
دوپٹہ شب کا ڈھلکے گا

ہے دل میں چاند کے جذبہ محبت کا
چھپاتا ہے وہ غیروں کی نگاہوں سے
اُڑھا کر اک دوپٹہ اس کو تاروں کا
مگر چنچل ہے رانی رات کی بے حد،
فضا کے گلستاں میں پھرتی ہے اٹھکیلیاں کرتی،
ہوائیں گیسوؤں کو اُس کے چھو کر دوڑ جاتی ہیں،
دوپٹہ شب کا ڈھلکے گا،

وہ لو،پیلا پڑا روشن سا چہرہ چاند کا بالکل
اسے افسوس !اندیشوں نے گھیرا ہے
اسے خطرہ ہے غیروں کا
ہے جذبہ اس کے دل میں تند چاہت کا
مگر چنچل ہے رانی رات کی بے حد
وہ ان کیفیتوں کو دل میں لاتی ہی نہیں بالکل

دوپٹہ شب کا ڈھلکا،ہاں وہ ڈھلکا جس طرح نغمہ
کسی راگی کے دل سے اُٹھ کے اک دم بیٹھ جاتا ہے

پرندے چہچہاتے ہیں
وہ لو،سورج بھی اپنی سیج پر اب جاگ اُٹھا ہے
گئی رات اور دن آیا

۱۹۳۵

Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen